کہا یحیی نے سوال ہوا امام مالک سے کہ عرفات میں یا مزدلفہ میں کوئی آدمی بے وضو ٹھہر سکتا ہے یا بے وضو کنکریاں مار سکتا ہے یا بے وضو صفا اور مروہ کے درمیان میں دوڑ سکتا ہے تو جواب دیا کہ جتنے ارکان حائضہ عورت کر سکتی ہے وہ سب کام مرد بے وضو کر سکتا ہے اور اس پر کچھ لازم نہیں آتا مگر افضل یہ ہے کہ ان سب کاموں میں باوضو ہو اور قصدا بے وضو ہونا اچھا نہیں ہے ۔ سوال ہوا امام مالک سے کہ عرفات میں سوار ہو کر ٹھہرے یا اتر کر، بولے سوار ہو کر مگر جب کوئی عذر ہو اس کو یا اس کے جانور کو تو اللہ جل جلالہ قبول کرنے والا ہے عذر کو۔
Opening the collection...
“Read in the name of your Lord who created.” 96:1
“My Lord, increase me in knowledge.” 20:114
“So remember Me; I will remember you.” 2:152
“Indeed, with hardship comes ease.” 94:6